اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کی قومی سلامتی تنظیم نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ داعش کے زیر کنٹرول فوج کی تعداد کہیں اس سے زیادہ ہے جو ہم سوچ رہے تھے۔
امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی فیڈرل تحقیقاتی دفتر نے گزشتہ روز اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ داعش کے حقیقی اراکین کی تعداد ۲۰ سے ۳۰ ہزار تک ہے۔
اس رپورٹ جو امریکہ کے مختلف جاسوسی اور سکیورٹی اداروں نے گزشتہ دو ماہ مئی اور اگست میں تیار کی ہے کے مطابق داعش کے افراد کی تعداد گزشتہ دو مہینوں میں تین گنا بڑھ گئی ہے اس لیے کہ چند ماہ قبل امریکہ نے داعش کے افراد کی تعداد حد اکثر دس ہزار تک بتائی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کا جنرل ’’جان آلن‘‘ جو کئی سال افغانستان اور عراق میں رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کرنے کا تجربہ رکھتا ہے کو عراق میں داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فوج کا کمانڈر معین کیا جائے گا جو بین الاقوامی افواج کے ممکنہ وسیع اتحاد کے ساتھ ہم آہنگی کر کے داعش کے مقابلے میں میدان جنگ میں اترے گا۔
واضح رہے کہ امریکی، غربی اور عربی حکومتیں دھشتگردوں کی نسبت اپنی دوغلی پالیسیاں جاری رکھتے ہوئے ایک جانب سے ان کی مالی اور تسلیحاتی مدد کرتے ہیں اور دوسری جانب سے ان کے خلاف جنگ کا ڈھونگ رچا کر لوگوں کی توجہات کو اس بات کی طرف مبذول کرتے ہیں کہ ہم دھشتگردی کے خلاف ہیں جبکہ باقی ساری دنیا دھشتگردی کی حامی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲